میرے جسم پر کس کیڑے نے کاٹا ہے؟ پتا لگانے کا نہایت آسان طریقہ

اکثر اوقات ہم جب اپنے جسم پر کوئی دانا یا زخم دیکھتے ہیں تو ہم فوراً یہی سمجھتے ہیں کے یہ ضرور کسی کیڑے مکوڑے نے کاٹا ہے. لیکن زخم یا دانے کو دیکھ کر کیا آپکو پتا چل جاتا ہے کہ آپکے جسم کے اس حصّے پر کس کیڑے نے آپکو کاٹا ہے، نہیں نہ؟ اگر آپ سمجھتے ہے کے آپکے جسم پر نکلنے والا دانا صرف کسی معمولی مچھر کے کاٹنے کی وجہ ہے تو آپکا یہ اندازہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے. اس پوسٹ میں ہم آپکو بتائیں گے کے کس طرح پتا لگایا جاۓ کے آپکو کس کیڑے نے کاٹا ہے.

چچڑی نامی کیڑا سائز میں بہت چھوٹا ہوتا ہے اور یہ آپکے جسم کے ساتھ چپک کر خون چوستا رہتا ہے حتیٰ کے اس کا پیٹ خون سے نہ بھر جاۓ. اسکے خون پینے کی رفتار کافی سست ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ کئی کئی گھنٹے آپکے جسم کے ساتھ چپکا رہ سکتا ہے. چچڑی کے کاٹنے پر جلد پر لال رنگ کا دھبہ پڑھ جاتا ہے جو کچھ دنوں بعد صحیح تو ہو جاتا ہے لیکن بعض اوقات یہ لال دھبہ ختم ہونے کے بجاۓ بڑھتا رہتا ہے جس پر آپکو فوراً ڈاکٹر سے رجوح کرنا چاہیے. چچڑی کے کاٹنے پر آپکو ١٥ قسم کی مختلف بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں (encephalitis) دماغ کا سوج جانا، سر درد، بخار، اور شدید الٹیاں شامل ہیں.

جسم کے جس حصّے پر کاٹا ہو، وہ لال رنگ کا ہو جاتا ہے اور جگہ آہستہ آہستہ بہت زیادہ سوج جاتی ہے.شدید درد بھی محسوس ہوتی ہے. ان کیڑوں کے کاٹنے کے بعد کان ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور ہونٹ نیلے ہونا شروع ہوجاتے ہیں جسکا مطلب ہوتا ہے کے زہر آپکے جسم میں پھیل رہا ہے. اگر ایسی کیفیت ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے.

دوسری نشانی یہ بھی ہے کے جسم کے جس حصّے پر کاٹا ہو وہاں حارش، جلن، سوجن، اور درد محسوس ہوتی ہے. کچھ لوگوں کو سانس لینے میں بھی دشواری ہو جاتی ہے.

جلن، حارش، سوجن اور درد کے ساتھ ساتھ اگر آپکی جلد جہاں ان میں سے کسی کیڑے نے کاٹا ہو تو وہ مخصوص جگہ کی جلد بعض اوقات تھوڑی پھول بھی جاتی ہے. اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کے بھونڈ نے ایک ہی جگہ پر متعدد بار ڈنگ مارے ہیں.

مچھر زیادہ طور پر جسم کے اسی حصّے پر وار کرتا ہے جہاں پر جلد نرم ہوتی ہے. جب مچھر کاٹتا ہے تو اپنا تھوک آپکے زخم میں منتقل کردیتا ہے جسکے نتیجے میں خارش ہوتی ہے اور زخم والا حصّہ لال ہو جاتا ہے. کیا آپکو مچھر نے کاٹا ہے یا نہیں اس بات کا پتا آپ باآسانی لگا سکتے ہیں. مچھر کے کاٹنے کے بعد جسم پر چھوٹا لال رنگ کا دانا بن جاتا ہے.

پسو زیادہ تر پاؤں یا پھر ٹانگوں کے نچلے حصّے پر کاٹتا ہے. یہ آپکے جسم پر ایک سے زیادہ دفعہ تھوڑے تھوڑے فاصلے چھوڑ کرکاٹتا ہے. ویسے تو اس کے کاٹنے پر اسی طرح لال رنگ کے دانے بن جاتے ہیں جس طرح مچھر کے کاٹنے پر بنتے ہیں لیکن پسو کے کاٹے جانے پر درد محسوس ہوتی ہے اور زخم پر کافی تیز خارش محسوس ہوتی ہے. پسو کے بارے میں ایک دلچسپ اور خطرناک چیز یہ ہے کے یہ صرف سوتے ہوۓ شخص کو کاٹتا ہے اور اس کے کاٹنے پر مختلف قسم کے بیکٹیریل انفیکشنز اور بیماریاں لگ جاتی ہیں

ویسے تو معمولی چیونٹیوں سے انسان کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر سرخ چینٹی کاٹ لیں تو معاملہ انتہائی سنگین ہو جاتا ہے. سرخ چینٹی کے کاٹنے پر پس سے بھرے دانے نمودار ہو جاتے ہیں. سرخ چینٹی میں موجود زہر سے آپکو انفیکشن ہو سکتا ہے اور کچھ لوگوں کی طبیعت بھی انتہائی خراب ہو جاتی ہے. پس والا دانا صحیح تو ہو جاتا ہے لیکن جلد پر نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے.

گُھڑ مکھی (خرمگس ۔ جنس بگھی کی بڑی مکھی جو گھوڑوں ، مویشیوں اور دوسرے جانوروں کا خون چوستی ہے)

ویسے تو یہ بڑی مکھی زیادہ تر مویشیوں پر حملہ کرتی ہے لیکن بعض اوقات یہ انسانوں کو بھی کاٹ سکتی ہے. یہ موٹی مکھی ہمارا خون چوستی ہے اور اسکے کاٹنے پر شدید درد بھی محسوس ہوتا ہے. جب یہ کاٹ لے تو جلد پر ایک چھوٹا سا لال دانہ نکل آتا ہے جو کچھ دنوں میں غائب تو ہو جاتا ہے لیکن خارش اور سوجن انسان کو بہت تنگ کرتی ہے.

جوئیں